اکثر اوقات انسان اپنی پوری زندگی نا مکمل چیزوں کی تکمیل میں گزار دیتا ہے۔ یہ تمام چیزیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ مثال کے طور پر بچپن میں اسکول کا ہوم ورک، جوانی میں نوکری یا کاروبار سے وابستہ کوئ کام اور بڑھاپے میں اولاد کی شادی سے لے کر آخرت کا سامان مکمل کرنے کا کام۔ یہ ایک عام آدمی کی زندگی کی کہانی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ان سب چیزوں کی تکمیل کی پریشانیوں میں انسان کی اپنی زندگی کہیں نا مکمل رہ جاتی ہے۔ بلکل اس سوکھے ہوئے درخت کی طرح جو خود تو کٹ کٹ کر دوسروں کو لکڑی فراہم کر دیتا ہے لیکن اس کو کبھی ہریالی نصیب نہیں ہوتی۔ اور مسلہ صرف یہ نہیں بلکہ اصل مسلہ ہریالی نصیب نا ہونے کی وجہ جاننا ہے۔

puzzle - نا مکمل زندگی

آج خود کی زندگی پر غور کیا تو اس کو بھی ہر شخص کی زندگی کی طرح نا مکمل پایا۔ میں سوچنے لگا کہ آخر سب کچھ ہونے کے باوجود بھی کس چیز کی کمی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے کوئ شخص کسی نہر کنارے بیٹھا پانی پی رہا ہو لیکن پھر بھی اس کی پیاس نا بجھے۔ آنکھوں میں آنسو لیے میں حساب کرنے لگا کہ ایسا کیا ہو کہ اپنی ذات، اپنی زندگی مکمل لگنے لگے۔ اس اضطراب سے آخر چھٹکارا کیسے حاصل ہو۔

4256 1 - نا مکمل زندگی

کسی بزرگ نے کہا تھا کہ لوگ لزّت ہوتے ہیں اور دنیا کی تمام لزّتوں کا انجام برا ہوتا ہے۔ ہم اپنے معاشرے کا سماجی پہلو دیکھیں تو عموماً ہماری پوری زندگی لوگوں کے لئے خوش ہونے یا پھر لوگوں کو خوش کرنے میں گزر جاتی ہے۔ دوسرا پہلو بہت خطرناک ہے۔ لوگوں کو خوش کر کہ اپنی زندگی کی تکمیل کی چاہت کرنا ایسے ہی ہے جیسے کسی دلدل سے پار لگانے کی امید رکھنا۔ انسان کو خدا نے خلق کیا ہے اور بیشک وہ ہی اس کو تکمیل بخش سکتا ہے۔ مگر افسوس کے یہ معاشرا ہمیں دلدل میں بھیجنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔

باپ سرکاری نوکری میں اس لئے رشوت لیتا ہے کہ بیٹے کی خوشی کی خاطر اس کو نئے کپڑے دلا دے۔ بیٹا کسی لڑکی سے محبت کے وعدے صرف اس لئے توڑ دیتا ہے کے باپ کو خوش کر سکے۔ اس طرح کی بے شمار مثالیں موجود ہیں جہاں انسان کو خدا یا انسان کی خوشی میں سے کسی ایک کو چننا پڑتا ہے۔ خدا کی خوشی ہمیں ایک مکمل زندگی کی طرف لے جاتی ہے جب کہ انسانوں کو خوش کرنے کی کوشش ہمیں اندر سے کھوکلا کر دیتی ہے۔

images - نا مکمل زندگی

آئیے مل کہ پروردگارِ عالم سے دعا کریں کے ہماری زندگی ادھوری نا رہے۔ “یا میرے الّلہ ، میرے آقا، میرے داتا، تیرے دم سے ہی میں زندہ ہوں، تیری چاہت کے بغیر میں کچھ بھی نہیں۔ تو مجھے جیسا چاہے ویسا بنا دے، زندگی میں سکون دے، خوشیاں دے۔ میرے زندگی کو مکمل کر دے میرے مالک۔ میں تھک گیا ہوں اس دنیا میں، تیرے لوگ ہمیشہ مجھے مایوسی کے اندھیروں میں چھوڑ جاتے ہیں۔ تو سنبھالنے والا ہے میرے مولا، تو ہی کرم فرما۔ صرف تیری ذات کا ہی آسرا ہے۔ “ آمین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here