پیدائش سے ہی کچھ چیزیں انسان کی فطرت کا حصہ ہوتی ہیں۔ جیسے سانس لینے کا عمل ایک صحت مند بچے کی زندگی میں غیر ارادی طور پر شامل ہوتا ہے بالکل اسی طرح جزبات کا اتار چڑھاؤ بھی بچپن سے اس کی زندگی کا حصہ ہوتے ہیں۔ بھوک لگے تو رونا، کوئ گود میں اٹھا کر چلنا شروع کر دے تو خوش ہونا۔ کھلونوں کی آواز سے لے کہ رنگ برنگ چیزوں سے محظوظ ہونے تک، یہ سب ایک بچے کہ اندر جزباتی کیفیت ہونے کا ثبوت ہیں۔ اب جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا ہے اس کی زندگی میں سوالات جنم لینا شروع کرتے ہیں۔ وہ آپ سے زمین و آسمان کے درمیان ہر چیز کہ متعلق سوال کرتا ہے۔ کبھی روٹی کے آگے سوالیہ نشان ہو گا تو کبھی کسی چڑیا کے آگے۔ بچوں کے سوالات کی معصومیت سے اکثر احساس ہوتا ہے کہ جیسے خدا کی یہ پوری کائنات ایک پہیلی ہے، جس کو سلجھانے کی کوشش انسان بچپن سے ہی شروع کر دیتا ہے۔

boy in blue jacket sitting next to vehicle window 918806 1 1024x683 - جزبات اور سوالات

یہ تو پتہ چل گیا کہ گویا ہر چیز کو سمجھنے کا راستہ سوالات سے ہی شروع ہوتا ہے۔ لیکن کیا سوال پوچھنا ہمیشہ ہمارے لئے اتنا ہی فائدہ مند ہوتا ہے جتنا کہ بچپن میں؟ یہ دنیا اتنی آسان نہیں کہ انسان سوال پوچھتا جائے، ہر چیز سمجھتا جائے اور کامل زندگی گزار جائے۔ مسلہ تب شروع ہوتا ہے جب انسانی فطرت کہ دو عمل آپس میں ٹکراتے ہیں، جزبات اور سوالات۔ بدلتے جزبات کا اثر سوالوں پر ہونے لگے تو ان کا اگلے انسان پہ بہت گہرا اثر ہو سکتا ہے۔ آپ غصے میں ہوتے ہیں تو آپ کے سوال بھی دوسروں کو غصہ دلاتے ہیں، آپ خوش ہوتے ہیں تو آپ کے سوال بھی خوشیاں بکھیرتے ہیں۔

light black and white portrait canon 60778 1 953x1024 - جزبات اور سوالات

جو سوالات انسانی جزبات کے سحر میں آ جائیں ان سے صرف نقصان ہی ہوتا ہے۔ کبھی اللّہ ناراض تو کبھی بندے ناراض۔ اور اگر آپ ایسے سوال پوچھنے سے نہ رک سکیں تو شرمندگی آپ کا مقدر بن سکتی ہے۔ کسی کے ماضی پر کبھی سوال مت کریں۔ جو گزر چکا ہے اس کا حساب اللّہ پر چھوڑ دیں چاہے وہ بات دل پر کتنی ہی بھاری کیوں نہ ہو۔ اور بدترین سوال تو وہ ہے جو کسی کے جزبات کو مجروح کر دے۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ اپنے جزبات پر بے قابو ہو کر کبھی کچھ ایسا مت بولیں جس سے دوسرے کہ جزبات کی بے حرمتی ہو۔ یہ بات اللّہ کو سخت نا پسند ہے۔ قرآن میں لکھا ہے کہ، “۔۔۔۔۔ آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ ۔۔۔۔۔”۔ لیکن ابنِ آدم کو اکثر کہی ہوئ بات سمجھ نہیں آتی۔ وہ گر کہ ہی سیکھتا ہے، گناہ کر کہ ہی سجدے میں جاتا ہے، ٹوٹ کہ ہی خدا کو ڈھونڈتا ہے۔

کچھ سوال آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ یہ آپ خود سے بھی پوچھیں اور اپنے عزیز و اقارب سے بھی۔

جو انسان اللّہ سے دور ہو جائے اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟

وہ کونسی ایسی نیکیاں ہیں جو خود غرضی سے بالکل پاک ہیں؟

اللّہ سے اللّہ کو کیسے مانگتے ہیں؟

انسان اتنا نا شکرا کیوں ہوتا ہے؟

کسی غلطی کی معافی اگر انسان نہ دے تو کیا اللّہ بھی رحمت کے دروازے بند کر دے گا؟

جب توبہ قبول ہوتی ہے تو کیسا محسوس ہوتا ہے؟

جسے اللّہ نہیں ملتا اسے کون ملتا ہے؟

کیسے ہوتے ہیں وہ لوگ جن سے اللّہ راضی ہوتا ہے؟

اللّہ کیسی دعا قبول نہیں کرتا؟

silhouette photo of man with backpack standing in seashore 848573 1024x1024 - جزبات اور سوالات

امید کرتا ہوں ان سوالوں کے جواب کی تلاش میں آپ بہت کچھ سیکھیں گے۔ آئیے خدا سے مل کہ دعا کریں کہ ہمارے جزبات کبھی ہم پر حاوی نہ ہوں : “اے میرے اللّہ، تو اونچی شان والا ہے، بیشک تیرے سوا میرا کوئ نہیں۔ میرا ہر دکھ میری اپنی غلطی، میرا ہر سکھ تیری رحمت ہے میرے مالک۔ میرے مولا جزبات میں میں نے جس جس کا دل دکھایا ان کا دل اپنی رحمت سے میرے لئیے صاف کر دے۔ میرے آقا میں کمزور ہوں، تو طاقتور ہے۔ مجھے میرے جزبات سے بچا لے، الٹے سوالات سے بچا لے، مجھے مجھ سے بچا لے۔ اپنی رحمت کے صدقے میری ادھوری خواہشات کو پورا فرما دے۔” (آمین) ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here