وقت کا شمار دنیا میں آ ئ ہوئ ان چیزوں میں کیا جا سکتا ہے جو انسان کو انسان رہنے کا موقع دیتی ہیں۔ گناہ کیا تو مافی کے لیے وقت، غلطی کی تو اس کو سدھارنے کے لیے وقت، کوئ غم آ گیا تو اس کو بھلانے کے لیے وقت یا پھر نا لایقی دور کرنے کے لیے کچھ سیکھنے کا وقت۔ یوں تو وقت ایک بہت بڑی نعمت ہے لیکن اگر اس کی قدر نا کی جاۓ تو یہ زحمت بن جاتا ہے۔ یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ ہم وقت کو گزارتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ وقت ہمیں گزارتا ہے اور آخر کہیں کا نہی چھوڑتا۔ فطری طور پر انسان ایک ایسا شاگرد ہے جو پوری زندگی کچھ نا کچھ سیکھتا ہی رہتا ہے۔ یہ بھی ایک بہت اہم سوال ہے کہ انسان کیا سیکھے اور کس سے سیکھے لیکن اس پر پھر کبھی تفصیل میں لکھوں گا۔

timeobsessed - وقت
Picture: NationalPost

وقت اس ایک طرفہ عشق کا نام ہے جس میں پیار کرنے والا کبھی اپنے محبوب سے آگے نہیں جا سکتا۔ وقت اس دلدل کا نام ہے جو راستے میں رکنے والوں کو اپنے اندر دبوچ لیتی ہے۔ وقت اس گلاب کی طرح ہے جو ایک دفع مرجھا جاۓ تو واپس نہیں کِھل سکتا۔ اگر اپنی زندگی کہ ہر پہلو کا خیال نا کیا جاۓ تو وقت ایک شاطر چور کی طرح سب کچھ چُرا کہ آپ کی زندگی خالی کر دیتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں سب سے زیادہ وقت کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم اِسی کو سب سے کم اہمیت دیتے ہیں۔ اپنی زندگی کا جائزہ لیں اور گن کر بتائیں کہ کتنی دفع آپ نے خود سے یا کسی اور سے یہ لفظ کہے، “کاش تھوڑا اور وقت مل جاتا”۔ یہ کاش ہماری زندگی کا وہ زہر بن جاتا ہے جو نا جینے دیتا ہے نہ مرنے دیتا ہے۔ بس افسوس کی آگ میں جلنے کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔

tiempo - وقت
Picture: cumclavis

سوچنے کی بات یہ ہے کہ سب کچھ جاننے کہ باوجود ہم اس آگ میں کیسے پہنچ جاتے ہیں۔ پہلی وجہ تو انسان کہ اندر چھپا اس کا ڈر ہوتا ہے۔ ایسا ڈر جو ہمارے اعتماد کی دھجیاں اڑا دیتا ہے اور ہمیں یہ غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ ہم کوئ بھی معیاری کام وقت پر نہیں کر سکتے۔ ماضی کہ کچھ غلط فیصلے ہماری سوچ پر حاوی ہو جاتے ہیں کہ ہم پوری زندگی وقت کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتے۔ وقت سے ہارنے کی دوسری بڑی وجہ ہمارا نام نہاد حلقہ اِحباب ہے جو آپ کے وقت کو آپ سے چُرانا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ میرے ایک استاد اکثر کہتے ہیں کہ کام کرنے کی عمر میں بس دو طرح کے دوست ہونے چاہئیے، جن سے کچھ سیکھ سکیں یا جن کو کچھ سکھا سکیں۔ باقی سب کو بڑھاپے تک کے لئے خدا حافظ کہ دیجئیے۔ شاعر کہتا ہے:

تم قیامت کا نام دو گے اسے
وقت اپنی تھکان اتارے گا

آئیے آج ایک وعدہ کرتے ہیں کی ہم قیامت سے پہلے وقت کو کبھی موقع نہیں دیں گے کہ ہمارے اوپر کوئ قیامت ڈھاۓ۔ خدا ہم سب کو وقت سے جیتنے کی توفیق عطا فرماۓ (آمین)۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here